حرفِ حقیقت

14 اگست 1947 کی عظیم گھڑی جب مسلمانوں کا لہو اور آزادی کی کاوشیں رنگ لا رہی تھی عین اس وقت فرنگی اک دوسری سازش کا مکمل جال بچھا چکا تھا ۔لوگوں نے آزادی کی خوشی کی وجہ سے اسے شاید محسوس نہیں کیا۔ لارڈ میکولائے اور فرنگی نے ایسا خوف ناک نظام ترقی و تعلیم کے نام پر نافذ کر گیا کہ اس کے اثرات اور نتائج آج ہماری نسلوں کا بیڑا غرق کر چکے ہیں۔ہم آج جدید دنیا کے قدیم اور حریص غلام بن چکے ہیں اور ہمیں ہمارے ساتھ ہوئے ظلم کی خبر تک نہیں،سوال یہ کہ آج تک ہمیں وہ فرنگی اور انکے ایجنٹ ہی پھر اک نیا راستہ دکھا رہے ہیں جس کا خوبصورت نام سیکولرازم ہے۔

ہماری قوم کے تمام مسائل کی جڑ ان سب کو علم اور روشن شعوری سے دور رکھ کر ان پر صدیاں حکمرانی کرنے کے ناپاک عزائم ہیں۔اس قوم سے بنیادی حقوق لے کر مختلف معاشرتی اور معاشی مسائل سے دو چار کر کہ ان پر جرائم پیشہ بطور حکمران مسلط کر ان کو استعمال کرنا ہی پہلا مقصد ہے۔نشہ آور ادویات اور نشہ سستا کر کے عوام کو اخلاقی اور ذہنی غلام بنا کر اپنے ناپاک عزائم کو باآسانی تکمیل تک پہنچانا ان کا دوسرا مقصد ہے۔امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں جو بنیادی حقوق اٗن کو پیدا ہوتے ہی میسر ہیں (روٹی، کپڑا، مکان اور انصاف) وہ پاکستان جیسے ملک میں صرف اک نعرہ ہے جو صرف سیاست کے وٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور حقیقۃ صرف اک خواب ہے۔یہاں کا شہری صرف اپنی زندگی کا مقصد ہی اپنے قومی و بنیادی حقوق (روٹی، کپڑا، مکان اور انصاف) کو سمجھتے ہوئے صرف ان کے حصول کے لیے زندہ ہے اور اکثر پوری زندگی اسی کو حاصل کرنے کے لیے لگا دیتا ہے جو دوسرے ممالک بنیادی طور پر اپنے شہری کو دیتے ہیں۔امریکہ میں 60 سال کی عمر کے بعد حکومت اپنے شہری کو کم از کم 700 ڈالر وظیفہ اور دیگر سہولیات دیتی ہے۔اس کی وجہ اک ٹیکس کی بروقت ادائیگی بھی ہے۔پاکستان میں ٹیکس اور ڈیم فنڈ کے نام پر آفیشل ڈکیتی ماری جاتی ہے اور ہر چیز پر غنڈہ ٹیکس لگا کر ہر سال لوٹ مار کی جاتی ہے اگر پھر بھی کچھ نا بنے تو ڈالر سے چیڑ چھاڑ کر کے معاشی ڈکیتی بھی کرلی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ فرانس کے کے انقلاب کی طرح کیا ہم اپنی ریاست کی تقدیر بدل سکتے؟ ہم مردہ ہے کہ ضمیر فروش؟

ای ایم ایف اور ہمارے حکمران بس ایسی مثال ہے کہ “اڈیالا جیل یونیورسٹی آف سیاست ہے اور حکمران وہاں کے طالبِ علم”۔اگر ہم نا بدلے تو آج تو ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں مگر مکمل مذہبی بھی ہمارا مقدر بن جائے گی۔

آج ہم جس معجزاتی لمحوں کی تلاش میں ہیں وہ اس وقت تک نا آہیں گے جب تک ہے اسلام کا قانون نافذ نا کرے گے اور دنیا سے مذہبی طرز پر اقدام نا اٹھائیں گے۔اللہ ان اقوام کے حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت بدلے کی ہمت نہ کریں۔حقائق اور مسائل بہت ہیں مگر آج دبلِ جنگ بجا دیا ہے

اپنا آج بدل لیں کل بدل جائے گا

آج دنیا چاند پر قدم رکھ جکی ہے اور ہم ٹماٹر اور کدو پر اللہ لکھا ہوا ڈھونڈ رہے ہیں ۔دنیا کے سوال بدل چکے ہیں اور ہم ابھی تک کوا حرام ہے کہ مکروع اس پر ہی بحث کر رہے ہیں۔ہم مذہب کو ان کے شہدا کو استعمال کر کے آگے بڑھنے کی سوچ رہے ہیں اور ہمارے دشمن ہماری بیوقوفی پر تمسخر کرنے میں مصروف ہیں۔۔جدید اقوام کی غلامی کرنے کی بجائے اگر ہم ان سے سیکھ کر خود کو غلامی سے باہر نکالیں تو بہتر ہو گا۔


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: