تصوف اور صوفی-Sufism Urdu

‏دنیا میں کئی مذاہب ہیں۔ہر مذہب میں ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطن کے علوم بھی ان کے روز مرہ عبادات کا حصہ ہیں۔وہ اپنے اندر یعنی باطن سے خدا تک پہنچنے کی جستجو میں محو ہیں اوران میں سے کئی کمال درجہ تک بھی رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔اِن لوگوں میں پہلا سبق ہی اپنے نفس پر قابو حاصل کرنا ہی ہوتا ہے۔ہر کوئی اپنی روحانی کیفیت کے ذریعے ہی رب تک رسائی چاہتا ہے اور اس کمال کا ظہور اپنے ظالہری وجود تک منتقل کر کہ دنیا کو اپنے حق پر ہونے کی دلیل دیتا ہے۔اسلام جو کے مکمل دین ہے اس میں بھی اللہ تعالی تک رسائی اور قرب حاصل کرنے کے لیے جو خاص راستہ اسلاف نے بتایا ہے وہ تصوف کی راہ ہے۔لوگوں کے اندر اس سے متعلق بہت سے سوال ہیں جو ان کو شک اور شبہات میں ڈالتے ہیں۔مولا علی سے اک قول منسوب ہے.”من عرف نفسه عرف ربه ” ۔جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے رب کو پہچان لیا۔نفس عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے کافی معنی ہیں مثلاً ذات ،سانس اور جسم وغیرہ۔ دنیا میں روحانیت کا سفر اپنی ذات اور اوصاف سے شروع کرتے طالبِ روحانیت۔اسلام میں اس مخصوص طریقہ کو تصوف کہتے ہیں

صوفی اور تصوف کے بے شمار معنی ہیں مگر چند اک کچھ یوں ہیں ۔کچھ کا کہنا ہے یہ لفظ صوف سے نکلا ہے یعنی گدڑی اور کچھ کا کہنا ہے کہ تصوف مستصوف سے اخذ کیا گیا ہے یعنی معمار۔جیّد سکالرز نے اس کو یونانی لفظ سوفسٹ (Sophist) سے اخذ کیا ہے۔سوفسٹ وہ یونانی فلاسفروں کی جماعت تھی جو عوام کو تعلیم دیتی تھی اور بدلے میں مال دیتی تھی۔ان کا ماننا تھا کہ جو ہمارے پاس ہے ہم تمہیں دیتے ہیں اور جو تمہارے پاس ہے وہ تم ہمیں دو۔

رسالہ قشیریہ اور عوارف المعارف کتب میں بھی درجنوں کے حساب سے تصوف کی اصطلاحات درج ہیں مگر کوئی میعاری حد تک مطمئن نہیں کر سکی۔مختلف استادوں نے اپنی کتب میں اپنی رائے و اصول کے مطابق اس کے معنی درج کئے ہیں

میری دو رائے نہیں ہیں لہذا میرے نزدیک یونانی سوفسٹ سے ہی صوفی اور پھر تصوف اخذ کیا گیا ہے۔صوف کا لباس تو نصرانی بھی زیب تن کرتے تھے اور اگر اصحابِ صفہ سے بھی اخذ کریں تو صوفی کسے حدیث سے ثابت نہیں ۔

تصوف بطور جماعت کا کی ہمیں کوئی دلیل ہمیں احادیث مبارکہ یا سیرت کی کتب نہیں ملتی مگر صوفیاں کے اعمال اور طریقہ کا راستہ عین اصحابِ رسول صل اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے جس کو ہم اہل سنة و الجماعات کے نام سے جانتے ہیں۔ان صوفیاں کو غالبا شام یا ترقی میں یہ لقب دیا گیا ہے۔

تصوف بنیادی طور پر توکل علی اللہ پر مبنی ہے اور صوفی کی تین منازل ہیں ۔پہلی منزل الی اللہ دوسری مع اللہ اور تیسری فی اللہ ہے۔تصوف سفرِ قلب کا سے منسلک ہے جس میں صوفی اللہ کی صفات کے ذریعے امور انجام دیتا ہے بے شک یہ توفیق اللہ ہی صوفی کو نوازتا ہے۔آسان یہ کہ صوفی اپنی صفات اور ذات کو فنا فی اللہ کے مقام تک لے جاتا ہے اور اس اقرب حبل الورید کے راز کو پا لیتا ہے اور پھر اللہ فرماتا ہے کہ”میں مومن کے ہاتھ آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں”۔

تصوف کی تعلیمات اور مجاہدہ صوفی کو باصفا کر دیتے ہیں۔ حدیثِ جبرائیل جو مشکوة المصابیح کے باب الایمان میں ہے جس میں جبرائیل انسانی وجود میں سرکار صل اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتے ہیں اور چند سوالات آپکی خدمت میں عرض کرتے ہیں۔ان میں سے اک سوال احسان کی متعلق ہوتا ہے کہ احسان کیا ہے تو جواب میں آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “احسان یہ ہے کے تم یہ سمجھو کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہوں ورنہ یہ سمجھو وہ تمھں دیکھ رہا ہے” ۔پورا تصوف اسی احسان پر مبنی ہے اور ہر صوفی اسی حقیقت کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے تمام امور انجام دیتا ہے

کالم پڑھنے کا شکریہ اپنی رائے سے آگاہ کریں اور ہمارے انگریزی کالم پڑھنے کے کئے اس ویب سائٹ پر جائیں

http://www.sufiblogs.com

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: